گرین لائن کراچی:’سفر ایسا تو ہو کہ ہراسانی کا ڈر نہ ہو‘، گرین لائن کراچی کے شہریوں کی زندگی میں کتنی آسانی پیدا کرے گی؟

کراچی

،تصویر کا ذریعہASIF HASSAN

کراچی میں بس کا سفر جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور اگر یہ سفر کسی خاتون کو کرنا ہو تو پوچھیئے مت۔

‘جہاں بس روکیں، وہاں رکتی نہیں۔ جہاں بس رکتی ہے وہاں مردوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ خدا خدا کر کہ بس میں سوار ہو بھی جائیں تو اتنی بھری ہوتی ہے کہ جگہ ملنا دوبھر ہو جاتا ہے کیوں کہ مرد حضرات سے بھری ہوتی ہے۔ ایسے میں زیادہ تر بس چھوٹ جاتی ہے اور اگر بس مل جائے تو کھڑے رہ کر اذیت ناک سفر کرنا پڑتا ہے۔’

یہ کہانی ہے کراچی کی اقصی کمال کی جنھیں نیو کراچی سے نرسری تک ملازمت کے سلسلے میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ اقصی کہتی ہیں کہ 20-25 منٹ تو بس کے انتظار میں گزر جاتے ہیں۔ ‘ایک گھنٹے کا سفر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا بن جاتا ہے۔’

‘سفر کم از کم ایسا تو ہو جس میں ہراسانی کا ڈر نہ ہو’

کراچی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کا مسکن ہے۔ بعض ماہرین اور سیاست دانوں کے مطابق تو اب اس کی آبادی دو کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب میں عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کا نظام گزشتہ کئی دہائیوں سے دگرگوں حالت میں ہے۔ ملازمت کےلیے جانا ہو یا تفریح کے لیے، مارکیٹ تک پہنچنا ہو یا سکول، کراچی میں عام آدمی کا سفر انگریزی زبان کا لفظ بن جاتا ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کی وجہ سے یہاں آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی، کار اور ٹیکسی کا استعمال عام ہے۔ پھر بھی عوام کی ایک بڑی تعداد ہے جو بس میں سفر کرتی ہے، جن کی تعداد محدود اور حالت خستہ ہو چکی ہے۔

بس کا سفر خاص طور پر خواتین اور طالبات کے لیے سہولت سے زیادہ پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ گذشتہ دنوں کراچی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک کوچ ڈرائیور کو ایک طالبہ سے بد اخلاقی کرتے دیکھا گیا۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اس ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا لیکن نہ جانے ایسے کتنے ہی واقعات کراچی کی بسوں میں روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔

فاطمہ کراچی کی رہائشی ایک طالبہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جیسے ہی وہ کسی بس میں سوار ہوتی ہیں انہیں ناخوشگوار احساسات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘سب سے پہلے ڈرائیور کا رویہ۔ پھر بس میں مردوں کی نشتسوں کی تعداد زیادہ جبکہ خواتین کی جگہ کم ہوتی ہے۔’ان کا گلہ ہے کہ سفر آرام دہ نہ صحیح کم از کم ایسا تو ہو جس میں خوف اور ہراسانی کا ڈر نہ ہو۔

کراچی

کراچی کی بسیں کہاں گئیں؟

پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے میں کراچی شاید پاکستان کا سب سے بدقسمت شہر ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور حتی کہ ملتان تک میں میٹرو بس سروس رواں نظر آتی ہے لیکن کراچی میں پانچ بار ماس ٹرانزٹ منصوبوں کا اعلان صرف اعلان کی حد تک ہی رہا۔

کراچی میں شہری تنظیم کی محقق حوا فضل کے مطابق کراچی کی ٹرانسپورٹ کا حال 1947 سے بدتر ہوتا چلا گیا ہے۔

‘کراچی میں 20-25 سال قبل 25 ہزار منی بسیں اور بسیں ہوتی تھیں جبکہ اس وقت صرف پانچ ہزار کے قریب رہے گئی ہیں۔ ان کی حالت بھی ایسی ہے کہ کہیں سیٹ نہیں، باڈی اور کھڑکیاں ٹوٹی پھوٹی، خواتین کے لیے جگہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی عمل نہیں اور سارا کاروبار پرائیوٹ سیکٹر چلا رہا ہے۔’

کراچی ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کی 50 فیصد بسیں لاپتہ ہوچکی ہیں۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ 1985 میں جب بشریٰ زیدی کا حادثہ ہوا تو شہر میں بسوں کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں۔

یاد رہے کہ سرسید کالج کی طالبہ بشریٰ زیدی اپریل 1985 میں ایک کوچ کی ٹکر میں ہلاک ہوگئیں تھیں جس کے بعد شہر میں لسانی فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

ارشاد بخاری بتاتے ہیں کہ ہنگامہ آرائی، ہڑتالوں اور احتجاجوں کے دوران جلائی جانے والی گاڑیوں کا معاوضہ نہیں ملتا تھا۔ ‘دوسری طرف جب جلسے جلوس ہوتے تھے تو دو دو تین تین دن کسی کی بھی بس پکڑ لی جاتی تھی جس سے ٹرانسپورٹر کی حوصلہ شکنی ہوئی۔’

ارشاد بخاری کے مطابق ‘اس وقت کراچی میں صرف پانچ ہزار کے قریب بسیں اور کوچز باقی ہیں۔ اس کی وجہ ان کے مطابق معاشی ہے کیوں کہ کوئی بھی ‘نئی سرمایہ کاری کا رسک اٹھانے کو تیار نہیں۔ دو ڈھائی کروڑ کون لگائے گا جب کرایہ بھی زیادہ سے زیادہ 50 روپے ہے۔’

ارشاد بخاری کہتے ہیں کہ پہلے گاڑیاں سی این جی پر چلائی گئیں۔ ‘اس کے بعد جب سی این جی مہنگی ہوئی تو دوبادہ ڈیزل پر لائے۔ اس صورتحال میں کچھ بسیں کباڑ میں فروخت ہوگئیں یا ٹرک اور منی واٹر ٹینکر میں تبدیل ہوگئیں۔ اس وقت جو لوگ بسیں چلا رہے ہیں وہ کسی زمانے میں ڈرائیور یا کلینر تھے۔

بی آر ٹی منصوبہ اور سرکلر ریلوے

کراچی کی ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت نے بس ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کا آغاز کیا جس کو کراچی بریز کا نام دیا گیا ہے۔

منصوبے میں گرین لائن، ریڈ لائن، بلیو لائن ، اورنج لائن اور یلو لائن کے ساتھ سرکلر ریلوے بھی شامل ہے۔ ان میں سے گرین لائن سب سے طویل منصوبہ ہے جو وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے 78 ارب روپے کی لاگت سے ریڈ لائن بس منصوبہ شروع کیا جائیگا جو ماڈل کالونی، ایئرپورٹ، صفورہ چورنگی، یونیورسٹی روڈ سے نمائش چورنگی تک چلے گی۔ 29 کلومیٹر کے فاصلے پر 24 اسٹیشنز ہونگے اور 213 بسیں چلیں گی۔

بلیو لائن روٹ کی بسیں آلاصف اسکوائر سے گرومندر تک چلائی جائیگی جو 10 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اورنج لائن اورنگی ٹاؤن کمیٹی سے چلے گی جو جناح یونیورسٹی تک آئیگی۔

اس منصوبے کا افتتاح سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کیا تھا جس کا ٹریک تو بن چکا لیکن منصوبہ اب تک غیر فعال ہے البتہ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ کہتے ہیں کہ بسوں کی خریداری کے لیے وفاقی حکومت کو پیسے دے دیے گئے ہیں۔

یلو لائن روٹ کا آغاز لانڈھی سے ہوگا اور یہ ایف ٹی سی اور ریگل چوک سے ہوتی ہوئی پارکنگ پلازہ تک پہنچے گی۔ ان تمام منصوبوں میں سب سے پہلے گرین لائن کی آزمائشی سروس کا آغاز کیا جارہا ہے۔

بی آر ٹی

گرین لائن منصوبہ کیا ہے؟

گرین لائن منصوبہ سرجانی ٹاؤن سے شروع ہوگا اور نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، لسبیلہ ، گرو مندر سے ہوتا ہوا نمائش کے علاقے تک اختتام پذیر ہوگا۔ 21 کلومیٹر طویل ٹریک پر 21 ہی سٹیشن بنائے گئے ہیں۔ اس روٹ کو ویسے تو جامع کلاتھ مارکیٹ کے علاقے تک جانا تھا لیکن فی الحال اس کو نمائش تک محدود کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر اس منصوبے پر 80 بسیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ہائبرڈ بس میں 38 نشستیں ہیں۔

گرین لائن منصوبے کے چیئرمین جاوید قریشی کے مطابق فی بس میں سو کے قریب لوگوں کی گنجائش موجود ہے اور ہر بس سرجانی سے نمائش تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 70 منٹ لگائے گئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ سروس صبح چھ بجے سے لیکر رات بارہ بجے تک ہوگی۔

اہم بات یہ ہے کہ اس کے کرائے کا تعین ابھی ہونا باقی ہے لیکن 50 سے 70 روپے تک کرایہ مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

25 جنوری سے مکمل آپریشن بحال ہوگا

سرجانی ٹاؤن سے لیکر آخری اسٹیشن نمائش چورنگی تک کے اسٹیشنوں پر ابھی تعمیراتی کام جاری ہے۔ کہیں روشنی نہیں تو کہیں ویلڈنگ اور سیمنٹ کا کام ہوتا نظر آیا۔

کئی اسٹیشنوں پر مشینری اور آٹومیٹک دروازے بھی غیر فعال ہیں۔ نمائش پر تو افتتاح کی رات تک رنگ و روغن اور اسٹیشن کے نام اور دیگر عبارت لکھنے کا کام جاری تھا۔

ان تمام مسائل کے باوجود وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کافی پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 دسمبر سے آزمائشی آپریشن کا آغاز ہوجائیگا جب کہ کمرشل آپریشن 25 دسمبر سے شروع ہوگا۔

‘اس کے بعد دو دو تین تین دنوں کے بعد مزید اسٹیشنوں کا اضافہ کرتے جائیں گے اور 25 جنوری تک تمام اسٹیشن اور آپریشن بحال ہوجائیگا اور توقع ہے کہ ایک سے سوا لاکھ لوگ روزانہ سفر کریں گے۔’

گرین لائن بس

‘خواتین کی سواری کس کی ذمہ داری ہے؟’

گرین لائن بس سروس خواتین کی مشکلات حل کرے گی یا نہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گرین بس میں خواتین کے لیے ڈرائیور کے ساتھ کمپارمنٹ تو بنایا گیا ہے جبکہ اسٹیشن پر داخلی دروازہ بھی الگ سے ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ ہر بس میں 11 نشستیں خواتین اور دو معذور افراد کے لیے مختص ہیں۔ لیکن کیا ان نشستوں پر مرد حضرات تو نہیں بیٹھ جائیں گے؟

واضح رہے کہ اسلام آباد راولپنڈی میٹرو میں بس کے اندر خواتین کی نشستوں پر مردوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں لیکن گرین بس منصوبے کے چیئرمین جاوید قریشی کا کہنا ہے کہ گرین لائن میں ایسا کوئی نظام نہیں ہے مرد حضرات کو خود ہی اخلاقیات کی پیروی کرتے ہوئے ان نشستوں پر بیٹھنا نہیں چاہیئے۔

شہری تنظیم کی محقق حوا فضل کا کہنا ہے کہ ان کے سروے کے مطابق ایک کام کرنے والی خاتون اپنی آمدن کا 10 فیصد بس کے کرائے پر خرچ کرتی ہے۔

‘کام کرنے والے مرد اور خواتین ایک ہی وقت نکلتے ہیں اور اس وقت بس میں جگہ نہیں ہوتی۔ اس لیے خواتین کو بس اور کوچ چھوڑ کر سزوکی، چنگچی یا رکشہ میں مہنگا سفر کرنا پڑتا ہے۔’

حوا کہتی ہیں کہ ‘اگر آپ نے عورت کو متحرک معشیت کا حصہ بنانا ہے تو آپ کو اس بارے میں سوچنا ہوگا۔ 1947 سے لیکر اب تک ٹرانسپورٹ کے جو بھی منصوبے بنائے گئے ہیں ان کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا۔ ہر عورت یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ ان کی سواری کس کی ذمہ داری ہے؟’

منصوبے میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ

گرین لائن

وفاقی حکومت کی جانب سے بھی گرین لائن منصوبہ شروع کرنے کی تاریخیں سامنے آتی رہی ہیں۔ اس منصوبے کا افتتاح سابق وزیراعظم نواز شریف نے فروری 2016 میں کیا تھا اور اگلے دو سال میں اس کو فعال ہونا تھا۔

اس وقت تک سرجانی سے گرومندر تک کاریڈور بن چکا تھا لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد کام کی رفتار میں کمی آتی گئی۔

اس کا نقصان یہ ہوا کہ جو تخمینہ 16 ارب کے قریب تھا وہ 35 ارب روپے تک پہنچ گیا اور اس میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر کے مطابق کہ سولہ ارب روپے کا تخمینہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہی بڑھ کر 24 ارب ہوگیا تھا۔

‘جو فرق آیا ہے وہ یہ کہ 2020 کے دوران سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں طے پایا کہ وفاق صرف منصوبہ مکمل کرے گا اور سندھ تین سال کی ذمہ داری لے گا۔ اس تین سال کی ذمہ داری کے لیے 11 ارب رپے مقرر کیے گئے لیکن ادا نہیں ہوئے۔’

منصوبےمیں تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے اسد عمر کہتے ہیں کہ 2020 میں اپریل کے مہینے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کورونا کی وجہ سےمعیشت ٹھپ ہو گئی جس سے منصوبے میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی۔

‘لیکن اس کے بعد 20 ماہ کے اندر بسوں کا انتخاب کیا گیا، انسپیکشن کی گئی، بسیں آگئیں اور سافٹ ویئر بھی لوڈ ہوگیا۔’

اگر کورونا کی صورتحال نہ ہوتی تو انھیں امید تھی کہ اگست کے مہینے میں یہ سروس شروع ہوجاتی۔

گرین لائن سے توقعات اور خدشات

ماہرین کے مطابق گرین لائن بس شہر کی صرف 10 فیصد ٹریفک کا بوجھ اٹھا پائے گی۔ شہری امور کے ماہر عارف حسن کا کہنا ہے کہ گرین لائن کے روٹ پر موجود آبادی کو یقینا فائدہ ہوگا لیکن باقی روٹس کے لیے بھی بسیں ضروری ہیں جن کا جال بچھایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب کراچی میں گذشتہ بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال کا سامنا رہا جس کی ایک وجہ گرین لائن کا انفراسٹرکچر بتایا گیا۔ تاہم اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ جب یہ ڈھانچہ بن رہا تھا تو حکومت سندھ کی جانب سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی گئی تھی۔

شہری امور کے ماہر عارف حسن کا کہنا ہے کہ کراچی میں بارش کی نوعیت اور شدت بڑھ رہی ہے۔

‘یہاں مسئلہ یہ ہے کہ گرین لائن ایک ادارہ بنا رہا ہے، جبکہ بارش کی مینیجمنٹ کا ڈھانچہ ایک اور ادارہ بناتا ہے اور ان کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں۔ یہ مسائل آپس میں تعاون اور مشترکہ منصوبہ بندی سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔’

لکھاری ریاض سہیل بلشر بی بی سی 11 دسمبر 2021

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *